ڈاکو
اپنا موبائل میرے حوالے کر دو۔“
نقاب پوش ڈاکو نے پستول لہرا کے کہا۔
میں نے اتنے زور کا طمانچہ مارا کہ اس کا وجود ہل گیا۔
نقلی پستول نیچے گر گیا۔
وہ خود بھی نیچے گر گیا اور میرے پیر پکڑ لیے۔
مجھے معاف کر دو صاحب!"
وہ میرا اپنا ڈرائیور چھیما تھا۔
میرے ہی گھر کے قریب اندھیرے میں چھپ کر واردات کرنا چاہتا تھا۔
حرام خور! تجھے میرے سوا کوئی نہیں ملا فون چھینے کو ؟“
میں نے کہا۔
" مجھے بیگم صاحبہ نے کہا تھا۔“
وہ رونی صورت بنا کر بولا، وہ کہہ رہی تھیں، گھر آکر بھی ہر وقت فون میں گھسے رہتے ہیں۔“


No comments:
Post a Comment